لیکن میں تو جانتا ہوں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے

APNA JAHANIAN اتوار 27 اپریل 2014
 
tanveer faisal- column urdu

لیکن میں تو جانتا ہوں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔
دو مختلف میڈیم کی دو مختلف تصویریں،دو مختلف لوگ ،دو مختلف صدیاں،دو مختلف واقعات بلکہ سانحے،دو مختلف مقامات اور مسلم تاریخ کے دو مختلف سیاہ باب مگر اتنی یکسانیت، میں تصویریں کو مسلسل دیکھ رہا ہوں اور حیران ہوئے جا رہا ہوں بلکہ پریشان ہوئے جا رہا ہوں اتنی یکسانیت اتنی یکسانیت اگر میں مسلمان نہ ہوتا اور میں نے سُن نہ رکھا ہوتا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے تو ہندو نظریہِ آگوان پر یقین لے آتانوم چومسکی کہتے ہیں کہ تاریخی واقعات میں یا تو مماثلت ہوتی ہے یا نہیں(انکے الفاظ کا خلاصہ)میں حیران ہوں تاریخی واقعات میں اتنی مماثلت واقعی میں حیران ہوں۔ان دو مختلف میڈیم کی دو مختلف تصویروں میں یوں لگتا ہے جیسے ایک ہی شخصیت دو مختلف حلیے بدل کر موجود ہے دو نوں کے نام ایک جیسے دونوں کے کام ایک جیسے دو نوں کے انداز تقریباٌ ملتے جلتے دونوں کی زندگی کے ہر رنگ میں مماثلت۔

tanveer-faisal
پہلی تصویرایف پاڈیلا کے برش کا کمال ہے جس میں اُس نے 2جنوری 1492عیسوی کے اُس تقریب کی منظر کشی کی جو اسلامی تاریخ کے منہ سیاہ دھبے کی مانند ہے اس تصویر میں مولائے ابوالحسن اور سلطان عائشہ لہورہ کا فرزند اور ہسپانیہ کی آخری مسلم ریاست کا بادشاہ امیر ابوعبداللہ (باب دِل )قصرِالحمراء سے کچھ فاصلے پر اپنے محل ہی نہیں، اپنی ریاست ہی نہیں بلکہ مسلمانو ں کے آٹھ سو سالہ سنہری دور کی چابیاں کاسٹیلین ہسپانیہ کی ملکہ ازبیلاو بادشاہ فرڈی نینڈکے حوالے کر رہا ہے ۔یہ تصویر نہیں مسلمانوں کے منہ پر تاریخ کا ایک زور دار تھپڑ ہے ابو عبداللہ 1482ء کو امیر محمد(بارہ) کے نام سے ریاستِ غرناطہ کے تخت پر قابض ہواموصوف نے حصولِ تخت کے لیے اپنے ہی باپ کے خلاف بغاوت کردی۔باپ کو معزول کرنے کے بعد 1483ء کو کاسٹیلین پر حملہ کردیا تاکہ مسلمانوں کی لعن طعن سے بچ سکے مگر دورانِ جنگ گرفتار ہو گیا عیسائی بادشاہ کی حراست میں تھوڑے سے دباو ٗاور ترغیبات کے بعد موصوف ریاست عیسائیوں کے حوالے کرنے کے لیے راضی ہو گیاباقی کام گورنر غرناطہ ابوقاسم عبدالملک اور یوسف بن قاسم (غدار وزیر) نے مل کر اسلامی ریاست کے تختے میں آخری کیل بھی ٹوک دی آخر وہ وقت آگیا جب 25نومبر1491ء کو 67شقوں اور 5ذیلی دفعات کو معاہدہ کے ذریعے بغیر لڑے ملکہ ازبیلا اور بادشاہ فرڈی نینڈ نے غرناطہ پر قبصہ کر لیا اس وقت امیر عبداللہ کے پاس باقاعدہ 35ہزار سپاہ تھی اس معاہدے میں امیر ابو عبداللہ نے ذاتی فوائد کو ترجیح دی۔قصرِالحمراء سے بیدخلی کے بعد موصوف بمعہ اہل وعیال وادیِ بشارہ میں 1496ء تک مقیم رہا اور آخر کار وہاں سے جلاوطن ہو کر مراکش چلا گیا اور 1536ء میں دریاِ بکوبا کو پار کرتے اسکے کنارے اس طرح موت ہوئی کہ باقی سپاہ جو اُس کے پیچھے آ رہی تھی اس کی لاش کو روندتے ہوئے گزری۔مورخ (وان ڈی ماریانا)لکھتے ہیں کہ چابیا ں حوالے کرتے ہوتے والئی غرناطہ عورتوں کی طرح آہو بکا کر رہا تھا آواز رندی ہوئی اور آنکھو ں میں آنسو تھے اسی لیے اسے باب دل کا خطاب ملاتھامگر اُس کی آہوبکاہ ،آنسو اور 67شقوں کا معاہدہ مسلمانانِ ہسپانیہ کی حرمت و عزت نہ بچا سکا سقوطِ غرناطہ کے وقت مساجد عیسائی فوج کے گھوڑوں کے پیشاب سے تعفن زدہ تھی اور سرِبازار مسلمان خواتین کو بے آبرو کیا جا رہا تھا ۔

سقوط کے بعد تو مسلمانوں پر تکلیفوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے2فروری 1502ء میں ملکہ ازبیلا نے مسلمانوں کو واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ’’یا اسلام چھوڑ دو یاسپین‘‘ مگر مسلمان اسلام پر پکے رہے مگر ابھی امتحان اور بھی تھے 9اپریل 1609ء میں بادشاہ فلپ سوئم نے تین دن کے اندر مسلمانوں کو بیدخلی کا حکم دے دیا اس حکم کے تحت 30لاکھ مسلمان یا تو قتل ہوے یا سمند ر برد ہو گئے۔سقوط سے قبل غرناطہ میں کجھور کی شراب حلال قرار دے دی گئی تھی اور بادشاہ سلامت اس سے دل بہلایا کرتے تھے۔
دوسری تصویر کسی گمنام فوٹوگرافر کی ہے جس نے 16دسمبر1971ء ریس کورس پارک ڈھاکہ کی اُس تقریب کو اپنی کیمرے میں قید کیا ہے جس میں کمانڈر ایسڑن کمان لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی اسلامی تاریخ کی سب بڑھی شکست کو تسلیم کر رہے ہیں وہ بھی بغیر لڑے جبکہ اُسکے پاس 45ہزار باقاعدہ فوج اور 70ہزارنیم عسکری لوگ موجود تھے جبکہ فاتح لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا اس کے پہلو میں پرمسرت بیٹھا ہے موصوف لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی جس نے اپنے پیش رو امیرابو عبداللہ کا ریکارڈ توڑتے ہوئے بغیر لڑے آدھے پاکستان کو دشمن کے حوالے کردیا 1915 کو پیدا ہوئے انیس سال کی عمر میں برٹش انڈین آرمی میں کمیشن لیا اور پاکستان آرمی نے انہیں 16ستمبر 1971 آدھے پاکستان کا مالک بنا دیا ۔ 16دسمبر 1971 صرف دو مہینے بعد وہ خطہ ایک علیحدہ ملک بن گیا جہاں پاکستان کے حامیوں کو بے دریغ قتل کر کہ انکی لاشیں سڑکوں پر گھسیٹی گئیںآج بھی تیس لاکھ کے قریب بہاری دوسرے درجے کے شہریوں کی زندگی گزار رہے ہیں اور کیمپوں میں رہتے ہیں مگرپھر بھی خود کو پاکستانی کہلوانے فخر محسوس کرتے ہیں

بلکل سپین کے موروں کی طرح بس خدا انکو وہ وقت نہ لائے جو فلپ سوئم کے دور میں سپینی مسلمانوں پر آیا تھا۔ سقوطِ غرناطہ کے وقت امیر ابو عبداللہ عورتوں کی طرح آہوبکا کر رہا تو پونے پانچ سو سال بعد جنرل امیر عبداللہ شرمندہ ہونے کی بجائے مسخروں کی طرح ہندوستانی جنرلوں کو فحش لطیفے سنا رہا تھاسقوطِ غرناطہ سے قبل امیر ابو عبداللہ کجھور کی شراب اور حرم سرا کی خواتین سے دل بہلا رہا تھا تو سقوطِ ڈھاکہ سے قبل جنرل امیر عبداللہ چکن تکہ اور بنگالی بیسواوٗں سے من بہلا رہا تھادونوں امیر عبداللہ سقوط کے بعد لمبا عرصہ جیئے۔جنرل امیر عبداللہ 2فروری 2004 کوگمنامی کی موت مرا۔ مرتے دم تک شرمندگی کا احساس پاس سے بھی نہیں گزرا تھا۔امیر ابو عبداللہ کے 67شقوں کا معاہدہ مسلمانو ں کو بچا سکا نہ ہی جنرل امیر عبداللہ کا 3شرطوں والا۔سقوط غرناطہ کے پیچھے ایک عورت کا سازشی دماغ تھا (ملکہ ازبیلا) اور سقوطِ ڈھاکہ کے پیچھے بھی(ہندوستانی وزیراعظم اندراگاندھی)تب یوسف بن قاسم کی لالچ لے ڈوبی اور اب مجیب الرحمان کی۔ اسلامی تاریخ جب بھی پڑھی جائے گی دونوں امیر عبداللہ سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں دیں گے ۔ کیا واقعی تاریخ کو دہراتی ہے مگر اتنی مماثلت مجھے حیران کیے ہوئے ہے اگر میں مسلمان نہ ہوتا تو یقین کر لیتا کہ غرناطہ کا امیر عبداللہ ساڑھے نے چار صدی بعد نیازی خاندان میں دوسرا جنم لیا۔لیکن میں تو جانتا ہوں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔

Leave a Reply