نسل در نسل غلامی ، اسکی قسمیں اور تاریخ: تنویر فیصل کا کالم

APNA JAHANIAN اتوار 11 مئی 2014
 
tanveer-fasial-column

غلام ایسے افراد جو قانونی طور پر دوسرے لوگوں کی ملکیت ہوتے ہیں جیسے جانور،اشیاء اور زمین ۔یہ مالک کی ثوابدیت پر منحصر ہے کہ وہ اِان سے کیا کام لیتا ہے۔غلام کسی معاوضے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتا اور اس کے علاوہ جو تہذیب و مذہب مالک کی ہوتی وہی غلام کی ہوتی مختصر اتنا کہ غلام کی اپنی پسند و ناپسنداور ذات کی کوئی اہمیت نہیں۔ بعض مورّخین کے مطابق 11000 قبل مسیح میں مرض غلامی کی ابتداء ہوئی جب اہل بابل نے زرعی معاشرے کی بنیاد ڈالی لیکن بعض مورّخین کہتے کہ تہذیب بابلی کے تین ہزار سال بعد نشیبی مصّر کے باسیوں نے اسکا آغاز کیا۔ دُنیا کی تمام قدیم تہذیبوں مثلاٌ سمیری، مصّر ، چین، ہندوستان، یونان،روم ،فارس اور عرب تہذیب میں غلامیت کا سُراغ ملتا ہے ۔مرضِ غلامی نے ابن آدم ؑ کو اس طر ح شکنجے میں لے رکھاتھا کہ وہ اپنوں کے ہاتھوں ذلت کے گہر ے سمندر میں غرق تھاقدیم یونان میں غلامی کا یہ عالم تھا کہ سپارٹا کی کل آبادی کا تیس فیصد غلاموں کا تھا سوائے سقراط کی معمولی تنقید کے علاوہ کسی بھی یونانی فلسفی نے غلامی کے خلاف آواز بلند نہیں کی ۔رومن تہذیب کو غلامی کا تحفہ بھی یونانیوں سے تحفے میں ملا شہر روم کے ہر گھر میں تقریباٌ ایک غلام ضرور ہوتا تھااور آبادی کا چالیس فیصدحصہ غلام تھا۔ غلام تین طرح کے ہوتے تھے ایک وہ جو جنگی قیدی ہوتے اور فاتحین انہیں غلام بنا لیتے دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی جن کی پیدائش قحط زدہ یا خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں ہوتی اور انکے والدین پیٹ کی بھوک مٹانے کے لیے اپنے لختِ جگر بیچ دیتے ۔تیسری قسم اُن بیچاروں کی ہوتی جنہیں بردہ فروش اغواء کر کہ دور دراز کے علاقوں میں فروخت کر دیتے۔حضرت یوسف ؑ کا واقعہ تو قرآنِ پاک میں آیا ہے کس طرح ظالم بھائیوں نے انہیںؑ قافلے والوں کے ہاتھ بیچا تھا ۔

tanveer-faisal

ظہورِ اسلام کے بعد حضور پاکﷺ نے غلاموں اور لونڈیوں (خواتین غلام) کے ساتھ نرم سلوک اور شفقت کا درس دیاآپﷺنے مالکوں کی ہدایت کی کہ وہ اپنے غلاموں کی بہتر تعلیم و تربیت کریں صحابہ اکرامؓ نے سینکڑوں غلام خرید کر آزاد کیے جن میں موذنِ رسول ﷺًحضرت بلالؓ بھی تھے۔ مسلم تاریخ میں کئی ایسے غلام گزرے جنہوں نے اپنی بہادری اور ذہانت سے قدآور مقام پایا جیسے موسیٰ بن نصیر کا غلام طارق بن زیاد، محمود کا غلام ایاز اور سلطان محمد غوری کے وہ غلام جنہوں نے خاندانِ غلاماں کے نام سے حکومت کی وغیرہ وغیرہ، اسکے باوجود مسلمان حکمرانوں کے دور میں بھی غلامیت کا سیاہ کاروبار ہوتا رہاپہلے اندلس سے یورپی غلام ایشیا اور ایشیائی غلام یورپ بیچے جاتے ۔خلافتِ عثمانیہ کے دور میں ترک سرزمین اس لین دین کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ بردہ فروشی میں سب سے نمایاں تاجر یہودی تھے افریقہ جو غلاموں پیدا کرنے کا سب سے نمایا ں علاقہ تھا 700 ؁ ء میں شمالی افریقہ کا شہر زنجیبار غلاموں کی بڑی منڈی تھی ابنِ بطوطہ اور ابن خلدون نے بھی موجودہ گھانا ، مالی سوڈان اور نائیجیرا کو غلام پیدا کرنے والے سب سے بڑے خطے قرار دیا ہے تاریخ دان ڈیوڈ ۔پی ۔فور سیتھی لکھتے ہیں کہ نوویں صدی عیسوی میں تین تہائی دُنیا کی آبادی غلامی کے عذاب میں مبتلا تھی۔

1592 میں کولمبس نے ملکہِ سپین کی مد د سے جب نئی دنیا (امریکہ )دریافت کی تو جہاں مغربی آبادکاروں نے زمین کے لیے ریڈ انڈین کا بے دریغ خون بہایا وہیں اس کی ترقی اور خوشخالی کے لیے سیاہ فام افریقی غلاموں کا پسینہ اور خون دونوں بہا۔کولمبس نے جب ریڈ انڈینز کو معصوم اوربے ضرر کے ساتھ کام چور بھی پایا تو افراد قوت کے لیے نظر افریقہ کے مرد م خیز اور بھوک سے مارے خطے کے طرف گئی۔1502 ؁ء میں پہلا افریقی غلام امریکہ میں فروخت ہوا مگر اس کام میں تیزی اُس وقت آئی جب 1619 ؁ء میں ولندیزی سپاہیوں نے بیس کے قریب افریقی غلام برطانوی آبادکاروں کو فروخت کیے پھر کیا تھا بارہ سے پندرہ ملین افریقی سیاہ فام غلام امریکہ پہنچے اور چار ملین ایسے تھے جو سفر کی صعوبتوں کو برداشت نہ کے پائے اور راستے میں دم توڑ گئے اور سمندری مچھلیوں کی خوراک بن گئے وہ جو وہاں پہنچے ان پر ستم گری کی نئی دُنیا آشکار ہوئی امریکہ میں سیاہ فام غلاموں کے ساتھ کیا کیا سلوک ہوا اُسے لکھتے ہوئے تاریخ خود آبدیدہ ہو جاتی ہے جانوروں کی طر ح کام لینے کے ساتھ سفید فام جب چاہتے قانونی طور پر انہیں قتل کر سکتے تھے( لنچنگ قانون کے ذریعے) ۔ایک اندازے کے مطابق ان سیاہ فام غلاموں میں پچیس سے تیس فیصد مسلمان تھے۔بیسوی صدی عیسوی تک غلامیت کا کاروبار قانونی طور پر ہوتا تھا۔

غلامی کے خلاف وقتاٌفوقتاٌ آوازیں اُٹھتی رہیں فارس کے مشہور بادشاہ سائرس اعظم نے اپنے دور میں چالیس ہزار یہودی غلاموں کو آزاد کیا اسکے علاوہ ہر غلام کو آزاد ی دی تھی کہ وہ اپنے وطن واپس جا سکتا ہے صحابہ اکرامؓ بڑی چاہ سے غلام خرید کر آزاد کرتے ۔پہلی عالمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والی لیگ آف نیشن نے 1936میں غلامی کے خلاف اقدامات کیے۔1948میں عالمی معاہدہِ انسانی حقوق کے آرٹیکل (4) کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے غلامی کو ممنوع قرار دے دیا 1976 میں اس قانون پر سختی سے عملدرامد شروع ہوا اور پینتیس ممالک نے اس معاہدہ پر دستخط کیے اور اب تک 104ممالک نے اس معاہدے پردستخط کیے ہیں مگر پھر بھی آج 28.9ملین لوگ غلامی کے عذاب میں مبتلا ہیں جن میں 43% جنسی مقاصد کے لیے اور 32% مالی فوائد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں وطن عزیز میں بھی قبائلی علاقوں اور بلوجستان میں ایسے بیکار کیمپ موجود گی پائی گئی ہے جن میں تہذیب یافتہ علاقوں سے اغواء شدہ لوگوں سے مشقت کروائی جاتی ہے
وہ ستم زدہ لوگ جسمانی طور پر اپنے آقاوں کے غلام تھے مگر آج کل غلاموں کی نئی صنف پیدا ہوئی ہے جو پیدا تو آزاد ہوئی خود کو سمجھتی بھی آزاد ہے مگر ان کے ذہن دوسروں کے غلام ہیںیہ ہیں تیسری دُنیا اور مسلم ممالک کے وہ بد نصیب عوام جنہوں نے یورپی نوآبادیت اور جسمانی غلامی سے تو نجات حاصل کر لی مگر ذہن ان کے ہاں گروی رکھ دیے اقوام مغرب نے اس بار غلام بنانے کے لیے جو جال پھینکا ہے اُسکا نام ہے ’’میڈیا‘‘۔تب غلام اپنی تہذیب بھول کر وہی پہناوا ،زبان اور خوراک پسند کرتا جو اس کے آقا کی ہوتی اور آج کیا وہی کام ہم نہیں کر رہے؟

  • Fozia-Javed

    excellent — one of best column you ever write.

  • Saifg Waqas

    Jis detail main ap ne “Gulami” ki Chadal ka zikr Farmaya hai, Us se kam detail main agr ap watn-e-aziiz main ghulami pe roshni dal dete to zyada bhtr hota,

    Thora sa zikr aj ke halat aur Pak. ke hawale se bhi ho jata to reader k lye zyada asani hoti

    history explain krna hi colum nahi hota bl-ke histry ke sath sath mojoda halath main bhi roshni di jati hai.

    hope so my suggestion make u for enhancement in your written capability. Thankx

  • tanveer faisal

    Janab saif Sb,
    Uper ki 2 lines aur end ki 2 line pardh kar column ki samj nhn ati yeh MBA ki book nhn ka concept lia aur kudh he soch lia pura column pardho ge tu sari samj a jay ge. Kasoor tumhara b nhn hai Islamabad walon ko column ki samj kahana ati hai agar ati hoti tu pakistani Danshwar kab se sar khapa rahy hian kuch na kuch tu bahtr ho gia hota.