جھوٹی مسکراہٹ سے آپ دوسروں کو دھوکا دے سکتے ہیں ، دماغ کو نہیں: نئی تحقیق

APNA JAHANIAN جمعرات 20 مارچ 2014
 
laughter

جھوٹی مسکراہٹ آجکل ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والے ہمیں ملیں یا ہمیں بطور سیلز مین کسی پراڈکٹ کو لیکر لوگوں کو چل رہے ہوں۔ حتیٰ کے آپ سکول ٹیچر ہوں، طالب علم یا کوئی مقرر،بہت سارے موقعوں پر ہمیں جھوٹی مسکراہٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ حالانکہ بعض اوقات ہمیں دوسرے کو دیکھ کر جل بھُن رہے ہوتے ہیں مگر پھر بھی ہم مصلحت کے پیش نظر جھوٹی مسکراہٹ کا سہارا لے کر استقبال کر تے ہیں۔ سائنس اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ مسکرانے یا ہنسنے سے صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اورہنسنا  دماغی دبائو کو بہت کم کرتا ہےمگر  ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق  جھوتی مسکراہٹ لوگوں کو تو دھوکا دے سکتی مگر اسکے آپکےدماغ پر بالکل ویسے اثرات مرتب نہیں ہوتے جو حقیقی ہنسی سے مرتب ہوتے ہیں ۔

رائل ہالوے یونیورسٹی آف لنڈن ایک تحقیق کے مطابق دماغ پر نقلی ہنسی اور اصلی ہنسی کے واضح اثرات مختلف اثرات پڑتے ہیں۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اپنے ارد گرد رہنے والوں کو تو اپنی جھوٹی ہنسی سے دھوکا دے سکتے ہیں مگر اپنے دماغ کو نہیں۔

  • Muhammad Abu-Bakar

    nice article

  • Fozia-Javed

    Asli hansi aye khn se? har chez pe tu tax hai… hehehe